6 July 1985 – start of a new bloody chapter

!چھ جولائی 1985، ایک خونین باب کا آغاز

تحریر: اسحاق محمدی

01-19850706-shuhada

 

اگرچہ گذشتہ صدی کی آٹھویں دھائی کے وسط تک پورے ریجن میں بڑے واقعات رونما ھوچکے تھے یعنی افغاستان میں سویت نواز حکومت قایم ھوچکی تھی اور ایران میں اسی طرز حکومت کو روکنے کیلئے مغربی طاقتیں اقتدار ملاوں کو منتقیل کرنے میں کامیاب رھی تھی جسکی تمام تر دستاویزی ثبوت اب تمام میڈیاز پر موجود ھیں جبکہ پاکستان کے اندر ڈکٹیٹر جنرل ضیاء لحق اپنے عاصبانہ اقتدار کو مستحکم کرنے کےتمام دستیاب وسایل کا بیدریغ استعمال کررھا تھا ایسے میں خمینی صایب کی طرف سے تمام تاریخی و ارضی حقایق کو پس پشت ڈالتے ھوے صدور انقلاب یعنی اس انقلاب کو ایران سے باھر برامد کرنے کی احمقانہ آرزو نے اقتدار کے بھوکے اس جنرل کوجو پہلے ھی اسلامی نظام کا راگ الاپ رھا تھا کو سعودی وھابی کے قریب تر دکھیلتا رھا جو اگے چلکر دو فوجی اداروں ،خاص طورپر سعودی اینٹلیجینس اور آئی ایس آئی کے درمییان نزدیکی روابط برقرار کرنے کا سبب بنا جسکا اثر طاقتور پاکستانی ملٹری اسٹیبلیشمینٹ کے موجودہ شیعہ دشمن روے میں بوضوح دیکھا جاسکتا ھے ۔ یوں اس پس منظر میں بظاھر خاموش بلوچستان ایک باروت کے ڈھیر پر تھا جیسے ایک ھلکی سی چنگاری کی ضرورت تھی جیسے بدقسمتی سے ھمارے ھی چند پروردہ ایجنٹ ملاوں جیسے توسلی، اسدی وغیرہ نے دیکھائی جو گذشتہ تین دھایوں سے شعلہ ور ھے اور جسکےمستقبیل قریب میں بجھنے کے آثار کم ھی ھے۔

جنرل ضیاءلحق نے جب پاکستان میں یکطرفہ شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی تو شیعہ اقلیت کی طرف سے اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو بلا خیر مفتی جعفر حسین کے مشہوراسلام آباد دھرنے پر منتیج ھوا، جنرل ضیاء کو بظاہر پہلی بار جھکنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس ھٹ دھرم جنرل سے ڈھیل کوئی آسان ٹاسک نہیں تھا ھر موڑ پے مشکلات اور رکاوٹیں لیکن خوش قسمتی سے مرحوم مفتی جعفر حسین ایک جھان دیدہ شخص اور ملت کا ھمدرد تھا اس لیے کھبی تصادم اور تشدد کی سیاست کی طرف رخ بھی نہ کیا۔ یہ بات یقینی ھے کہ اگر مرحوم مفتی جعفر حسین مزید کچھ عرصہ بقید حیات رھتے تو آج پاکستان میں شیعہ فرقے کے لوگ نہ اس کسمپرسی میں ھوتے اور نہ ھی ریاستی انتقام جوئی کے زد میں لیکن بدقسمتی سے اسکی وفات کے بعد اسکا جانشین علامہ عارف حسین بنا جسکا تعلق ایک تشددپسند پسماندہ قبایلی معاشرہ پاڑہ چنارسے تھا اور جیسے براہ راست ایرانی رھبرانقلاب کی سیاسی و مالی حمایت حاصل تھی۔ ایسے میں ” خان کا نوکر ڈیڑھ خان” کے مصداق اس نئے انقلابی نے کچھ تو دیکھانا تھا لہذا تشدد کا آنا یقینی امر تھا۔ چنانچہ 1985 کے وسط میں موصوف نے جنرل ضیاء الحق سے شیعہ مطالبات کے ضمن میں بہ اصطلاح انقلابی رویہ اپناتے ھوے حکومت کوبراہ راست للکارا تے ھوےاحتجاج کی کال دی جوکویٹہ کے سانحہ چھ جولائی پر منتیج ھوا۔

 

اب سوال یہ ھے کہ کیا سیاسی تناو کے اس دور میں جب ضیاء ڈکٹیٹر، ایم آر ڈی کی تحریک کو بزور طاقت دبانے کے راستے پر گامزن تھا، کیا اس طرح ھڑتال کی کال دیکر حکومت سے براہ راست ٹکرلینا سیاسی بےتدبیری سے بڑھکر نہیں؟ جواب یقیناً اثبات میں ھےجو چھ جولائی کی خونین سانحہ کی شکل میں سب کے سامنے موجود ھے۔ ورنہ پاکستانی ڈکٹٹروں کی تاریخ صاف بتاتی ھے کہ انکے منظر سے ھٹتے ھی انکے تمام نام نہاد آسمانی صحیفے ردی کی ٹوکری کی نذر ھوتے دیر نہیں لگتی۔ کچھ مدت اور اگر اس مسلے کو مذاکرات کی میز تک محدود رکھاجاتا تو پاکستانی شعیوں پر کوئی آسمانی آفت نہ گرتی۔ لیکن صاف ظاھر ھے یہاں ناک سے لیکر جیب سب کے سب داو پر لگے تھے۔ سانحہ چھ جولائی کے آڈیوز، ویڈیوز سننے ،دیکھنے اورعینی شاھدین سے بالمشافہ ملاقاتوں جن میں گذشتہ دنوں کنیڈا میں مقیم سابق ھزارہ پولیس آفیسر جناب سارجنٹ ادریس بھی شامل ھیں میں اس حتمی نتیجہ تک پہنچا ھوں کہ یہ گھناونی سازش پہلے سے طے شدہ تھی جیسے اس دن ھر حال میں پایہ تکمل تک پہنچانا ھی اصل مقصد تھا۔ بقول جناب ادریس انتظامیہ آخر تک کوشش کرتی رھی کہ جلوس کو مارشل لاء اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سے پُرامن طورپر باز رکھا جاے لیکن شیخوں خاص طور توسلی و اسدی نے جلسہ کے آغاز ھی سے نہایت جارحانہ رویہ اپناے رکھا۔ توسلی نے تو تمام حدود پارکرردی۔ انہوں نے اپنے تند و تیز ” من لبنان میسازم”جیسی تقریروں کے ذریعے شرکاء کو مزید اشتعال دلاتا رھا اور پھر آخری چورن کے طور پر “اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ھے آیا” کے ذریعے پہلے سے مشتعیل ہجوم کو امام بارگاہ سے باھر نکلنے کا حکم صادر کردیا۔ بقول جناب سارجنٹ ادریس، انتظامیہ نے پھر بھی روایتی لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل سے مشتعیل ہجوم کو امام بارگاہ کے اندر دھکیلنے کی کوشش کی مگر اچانک ہجوم کی طرف سے فایرنگ شروع ھو گئی ۔ ہجوم کی طرف سے فایرنگ میں پہل کرنے کی تصدیق تقریباً سبھی چشم دید لوگوں نے کیں بلکہ چند نے برا راست پاڑۃ چنار کے سید امیر شاہ کا نام بھی لیا۔ لازمی نکتہ ھے کہ جب جلوس کو پُر تشدد بنانا مقصود تھا تو بعض کو اسلحہ لانے کی ذمہ داری دی ھوگی۔ اس خونین ڈرامہ میں 18 ھزارہ اور شیعہ سمیت 30 کے قریب عام لوگ اور پولیس والے مارے گئے، پاکستانی تاریخ کی سب سے طویل کرفیو لگی، ھزاروں بیگناہ لوگ گرفتار ھویں، کروڑوں کا مالی نقصان ھوا اور سب سے بڑھکر یہ کہ ھزارہ قوم اور حکومتی ایوانوں میں ایک ایسی خلیج آگئی جس سے آج تک اس ملک کا سب سے مقتدر فوجی اسٹبلیشمینٹ فاید اٹھا کراپنے پروردہ عناصر کے ذریعے ھزارہ قوم سے انتقام جوئی کے درپے ھے اور اس سےدستبردار ھونے پر آمادہ نہیں یوں کشمیر،افغانستان، ایٹمی ھتھیار کے ساتھ اب “ھزارہ” مسلہ بھی براہ راست آئی ایس آئی کے کنٹرول میں ھیں۔ اسی لیے اب اسمیں کسی کو کوئی تعجب نہیں ھونا چاہیے کہ نواز شریف، جنرل پرویز مشرف، آصف علی ذرداری اور اب ایک بار نواز شریف کی حکومتوں کے دوران اعلیٰ ترین سطح پر تمام تر یقین دھانیوں کے با وجودھزارہ نسل کشی کبھی نہیں رکی۔ یہ ممکن ھی نہیں کہ کویٹہ جیسے چھوٹے شہر میں جہاں ھرطرف سیوریٹی ھی سیکوریٹی ھے وھاں گذشتہ 15 سالوں کے دوران ھزاروں لوگ دن دھاڑے ھلاک و زخمی ھوں لیکن ایک بھی دہشتگرد ان سے نہ پکڑا جاے۔ بد قسمتی سے کویٹہ میں آباد ھزارہ معاشرے کی نشو و نما غیر فطری انداز میں ھوئی ھے جسکی وجہ سے اس میں چند بنیادی ڈاینامیک اقدار، بشمول احساس جواب طلبی و جواب دہی نہ ھونے کے برابر ھے۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ سانحہ 6 جولائی کے ذمہ داران اگر سیاسی بنیادوں پر سزا سے بچ بھی گئے تھے توھزارہ معاشرہ خود انکا احتساب کرتے۔ایسی صورت میں میں نہ تو سانحہ میزان چوک رونما ھوتا جس میں شیخ ہاشم، اسدی، ڈومکی وغیرہ شامل تھے، نہ ہی امام بارگاہ کلان دہشت گردانہ حملے میں اتنا جانی نقصان ہوتا جس کے بارے میں پولیس نے امام بارگاہ کے صدر سید اشرف کو کسی ممکنہ حملے کی بابت پیشگی خبردار کیا تھا لیکن اس نے مجرمانہ غفلت کی، نہ ہی دیگر درجنوں ایسے دیگر سانحات رونما ہوتے۔

من آنچہ شرطِ بلاغ است با تو میگویم

تو خواہ از سخنانم پند گیر یا کہ ملال !